علم غیب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کا علم، پیشن گوئی کا علم، وہ علم جس سے گزشتہ یا آئندہ ہونے والی بات یا حالات معلوم کیے جائیں پوشیدہ باتوں یا چیزوں کا علم۔ "دراصل ہم علمِ غیب جانتے ہیں ہمیں سب کچھ اس علم کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٢٢ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'علم' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد عربی ہی سے اسم 'غیب' لگا کر مرکب 'علم غیب' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کا علم، پیشن گوئی کا علم، وہ علم جس سے گزشتہ یا آئندہ ہونے والی بات یا حالات معلوم کیے جائیں پوشیدہ باتوں یا چیزوں کا علم۔ "دراصل ہم علمِ غیب جانتے ہیں ہمیں سب کچھ اس علم کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٢٢ )

جنس: مذکر